
سن 40 ہجری میں خوارج نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کے مابین جاری اختلافات کے خاتمے کے لیے تین بڑے رہنماؤں حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ اور حضرت عمرو بن عاصؓ کو ایک ہی رات قتل کردیا جائے۔ اس سازش کے مرکزی کردار عبدالرحمٰن بن ملجم نے حضرت علیؓ کو قتل کرنے کی ذمہ داری لی۔
عبد الرحمن بن ملجم مرادی، نے مکہ میں دوسرے دو خارجی برک ابن عبد اللہ اور عمرو بن بکر تمیمی سے ملاقات کی۔ ان لوگوں نے تین بڑی اسلامی شخصیتوں علی بن ابی طالب، معاویہ بن ابی سفیان اور گورنر مصر عمرو بن عاص کو مسلمانوں کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیا اور اپنے وقت کی “ناپسندیدہ صورت حال” کو حل کرنے کے لیے، ان تین شخصیات کو قتل کرنے اور اپنے اصحاب نہروان کے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔
مصر کے ایک خارجی ابن ملجم نے علی کو شہید کیا۔ ابن ملجم آبائی طور پر حمیر کا رہنے والا تھا مگر اس کی رشتہ داری مراد سے بھی تھی۔ سلطنت نجد کی شاخ کندہ کے قبیلہ بنی جبالہ کے ساتھ بھی قرابت داری تھی۔ ابن ملجم کوفہ میں النہروان پر علی کی فوج کے ہاتھوں خارجیوں کے سربراہ کے قتل کا علی سے بدلہ لینے کی نیت سے داخل ہوا تھا۔ کوفہ میں اس کی ملاقات قبیلہ تیم الرباب کے دس لوگوں سے ہوئی جن میں ایک عورت “قطام” بھی شامل تھی یہ لوگ علی سے اپنے رشتہ داروں کی موت کا بدلہ لینے کو اکٹھے ہوئے تھے۔ قطام کے والد اور بھائی بھی النہروان پر علی کی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ ابن ملجم نے جونہی قطام کو دیکھا تو عالم دین علی الصلابی کے مطابق اپنے ہوش گنوا بیٹھا اور کوفہ آمد کا مقصد بھول گیا۔ بن ملجم نے قطام کو شادی کی دعوت دی تو قطام نے شادی کے بدلے اپنی شرائط رکھی کہ اُسے ہزاروں سونے کی اشرفیاں، مغنیہ اور ایک غلام مرد کے علاوہ علی کی موت بطور مہر چاہیے۔ ابن ملجم نے ایک آدمی شبیب کو اپنی مدد کے لیے تیار کیا۔ اس کے ساتھ شبیب بن بجرہ، وردان بن مجالد بھی مل گئے۔ انھوں نے بڑی چالاکی سے کوفہ مسجد کے اس داخلی دروازے پر خفیہ موچے سنبھال لیے جہاں سے علی مسجد میں داخل ہوتے تھے۔
17 یا 19 رمضان کو علی کوفہ مسجد میں فجر کی نماز کے لیے داخل ہوئے تو ابن ملجم نے زہریلی تلوار سے علی کے سر پر وار کیا جس سے علی زخمی ہو گئے شبیب کا وار ضائع گیا اور تلوار دروازے کی لکڑی میں جا لگی۔ کہتے ہیں کہ جب علی کو زخم آیا تو مسجد داخل ہوئے یا نماز فجر میں علی نے سورہ الانبیاء کی تلاوت کی۔ شبیب وہاں سے بھاگا مگر کندہ کے مقام پر اسے اوامیر نے گھیر لیا مگر رش کی بنا پر وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ وردان بن مجالد اپنے گھر پلٹا مگر اس کے اقرار جرم کے نتیجے میں اس کے رشتہ دار عبد اللہ بن نجبہ بن عبید نے قتل کر دیا۔ ابن ملجم کو ایک ہاشمی حسب نسب والے مغیرہ بن نوفل ابن حارث نے دبوچ لیا۔ علی نے حکم صادر کیا کہ اگر اس کی وفات اس زخم سے ہوئی تو ابن ملجم سے اس کا بدلہ لیا جائے 2 دن بعد 19 یا 21 رمضان 661ء میں 62 یا 63 سال کی عمر میں علی کی وفات ہو گئی
اس بارے دو مختلف روایات پائی جاتی ہیں کہ علی کی شہادت سے قبل ان کو اپنے انجام کا علم ہو چکا تھا۔ یہ پیشگی علم یا تو انھوں نے خود کسی طور دیکھ لیا تھا یا پھر انھیں پیغمبر اسلام نے اس بارے میں بتایا تھا۔ متعدد روایات کے مطابق علی کے سر سے بہتا خون ان کی داڑھی کو رنگ رہا تھا جو انھیں یا تو خود علم ہوا یا پھر پیغمبر نے بتایا۔ ایک اور روایت کے مطابق قدما میں سب سے برا شخص وہ تھا جس نے پیغمبر صالح کی اونٹنی کو ہلاک کیا تھا اور موجودہ انسانوں میں سب سے برا وہ ہوگا جو علی کو قتل کرے گا۔ قتل کی رات علی نے بتا دیا تھا کہ ان کا وقت آن پہنچا ہے اور بعد میں ان کی بات سچ ثابت ہوئی۔
رمضان المبارک کی 17 تاریخ 40 ہجری، بروز جمعۃ المبارک نماز فجر کے وقت حضرت علیؓ کوفہ کی جامع مسجد میں تشریف لائے۔ آپؓ نے لوگوں کو نماز کے لیے بیدار کرتے ہوئے اذان دی، پھر امامت کے لیے کھڑے ہوئے۔ ابھی آپؓ پہلے رکعت کے پہلے سجدے سے سر اٹھا رہے تھے کہ عبدالرحمٰن ابن ملجم نے اچانک زہر آلود تلوار سے آپؓ کے سر پر حملہ کردیا۔ تلوار سر کی ہڈی تک پہنچ گئی جس سے شدید زخم آیا۔
حضرت علیؓ نے زخمی ہوتے ہی فرمایا: “فُزتُ وربِّ الکعبۃ” (ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا)
حملے کے بعد حضرت علیؓ کو گھر منتقل کیا گیا۔ اس دوران آپؓ مسلسل اللہ کے ذکر اور صبر و رضا کی نصیحت فرماتے رہے۔ آپؓ نے اپنے صاحبزادوں، خصوصاً حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو تقویٰ اور صبر کی خصوصی وصیت فرمائی۔ آپؓ نے قاتل کے متعلق تاکید فرمائی کہ اس کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے، البتہ اگر میری موت واقع ہو جائے تو صرف ایک ضرب لگا کر قصاص لیا جائے اور اس کا مثلہ (لاش کا بگاڑنا) نہ کیا جائے۔
حضرت علیؓ دو دن تک شدید زخمی حالت میں رہے اور 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آپؓ کی عمر مبارک 63 سال تھی۔ حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، اور عبداللہ بن جعفرؓ نے غسل دیا اور حضرت حسنؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ آپؓ کو کوفہ کے قریب نجف میں دفن کیا گیا۔
حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ابن ملجم کو گرفتار کرلیا گیا۔ آپؓ کی وصیت کے مطابق قاتل کو صرف ایک ہی ضرب لگا کر قصاص میں قتل کیا گیا۔ قاتل کا مثلہ کرنے یا انتقامی کارروائیوں سے سختی سے منع فرمایا تھا۔
WhatsApp us