
نماز عید الفطر کا طریقہ
پہلے یوں نیت کرے کہ دو رکعت واجب نماز عید (6) واجب تکبیروں کے ساتھ اس امام کے پیچھے پڑھتا ہوں۔
عیدین کا طریقہ نماز کی طرح ہی ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ پہلی رکعت میں “سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ” پڑھنے کے بعد (اللّٰهُ اَكْبَر) کہہ کر ہاتھ اٹھائے اور پھر باندھ لے، پھر تین تکبیریں (اللّٰهُ اَكْبَر) کہتا ہوا ہر بار ہاتھ اٹھائے اور چھوڑ دے، اور چوتھی تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھ لے۔ اس کے بعد امام قراءت کرے، پھر رکوع اور سجدہ کرے۔
دوسری رکعت میں قراءت کے بعد تین تکبیریں (اللّٰهُ اَكْبَر) کہہ کر ہاتھ اٹھائے اور چھوڑ دے، اور چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے۔ باقی نماز عام نماز کی طرح مکمل کرے۔
نماز عیدین میں شرکت کا طریقہ
نماز کے درمیان میں امام کے ساتھ شریک ہو جانے کی کئی صورتیں ہیں، ہر صورت کا حکم مختلف ہے:
اگر خطرہ ہو کہ کھڑا ہو کر تکبیر کہنے سے رکوع نہیں ملے گا تو سیدھا رکوع میں چلا جائے، اور رکوع میں بجائے “سبحان ربی العظیم” کے تکبیرات کہے۔ اس میں ہاتھ نہ اُٹھائے۔
اور اگر اس کے تکبیرات کہنے سے پہلے امام رکوع سے اٹھ جائے تو اس کو بھی کھڑا ہو جانا چاہیے۔ جو تکبیریں رہ گئی ہیں وہ معاف ہیں۔
پہلی رکعت میں رکوع کے بعد شریک ہوا تو اب تکبیرات نہ کہے۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد جب پہلی رکعت پوری کرے گا تو اس میں تکبیرات کہی جائیں۔
پہلی رکعت امام کے بعد پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ امام کے سلام کے بعد کھڑا ہو کر ثناء، اعوذ باللہ، بسم اللہ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ پڑھ کر تین تکبیرات کہہ کر رکوع میں جائے، کیونکہ اس کی یہ دوسری رکعت کے قائم مقام ہے۔
مسائل صدقہ فطر
بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جس پر زکوٰۃ فرض نہیں، اس پر صدقہ فطر بھی واجب نہیں۔ ایسا سمجھنا غلط ہے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی مگر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، جیسا کہ کئی مسائل سے آگے معلوم ہوگا۔
مسئلہ:
جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ اس پر زکوٰۃ فرض ہو، یا زکوٰۃ فرض نہ ہو لیکن اس کے پاس ضروری سامان سے زائد اتنا سامان ہو کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے۔
چاہے وہ سامان تجارت کا ہو یا تجارت کا نہ ہو۔ مثلاً گھریلو سامان ضرورت سے زائد ہو، اور چاہے اس پر پورا سال گزرا ہو یا نہ ہو۔
(مراقی الفلاح)
مسئلہ:
کسی کے پاس اپنی رہائش کا بڑا قیمتی مکان ہے اور پہننے کے قیمتی کپڑے ہیں، مگر ان میں سونے چاندی کا زیور نہیں ہے۔ نیز گھریلو سامان ہے جو استعمال میں آتا رہتا ہے، مگر زیور اور روپیہ نہیں، یا کچھ سامان ضرورت “
سے زیادہ بھی ہے اور کچھ گو نہ ٹھپہ زیور اور روپے بھی ہیں مگر ان کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہے تو ایسے شخص پر صدقہ فطر واجب نہیں۔
کسی کے پاس زیور اور روپے نہیں، نہ ہی سامانِ تجارت ہے، مگر کچھ سامان ضرورت سے زیادہ ہے جس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو ایسے شخص پر زکوٰۃ تو واجب نہیں مگر صدقہ فطر واجب ہے۔
مسئلہ:
کسی کے پاس دو مکان ہیں، ایک میں خود رہتا ہے، دوسرا خالی پڑا ہے یا کرایہ پر دیا ہوا ہے تو شرعاً یہ مکان ضرورت سے زائد ہے۔ اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے۔
البتہ اگر اس مکان کے کرایہ پر اس کا گزارہ ہوتا ہو تو یہ مکان بھی ضروری سامان میں داخل ہو جائے گا اور اس پر صدقہ فطر واجب نہ ہوگا۔
مسئلہ:
کسی کے پاس ضروری سامان سے زائد مال اور سامان ہے مگر وہ مقروض ہے تو قرضہ منہا کر کے اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا زائد بچتا ہو تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے اور اس سے کم بچتا ہو تو صدقہ فطر واجب نہیں۔
(درمختار)
مسئلہ:
عید الفطر کے دن صبح صادق کے وقت یہ صدقہ واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر فجر کا وقت آنے سے پہلے ہی کسی کا انتقال ہو گیا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں، اس کے مال میں سے نہ دیا جائے۔
اور جو بچہ عید کے دن فجر کے وقت سے پہلے پیدا ہوا اس کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب ہے، اور جو بچہ فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد پیدا ہوا اس کی طرف سے صدقہ فطر واجب نہیں۔
(عالمگیری)
بچے کے صدقہ فطر واجب ہونے کی صورت اس وقت ہوگی جب اس کا والد صاحبِ نصاب ہو تو اس پر صدقہ فطر واجب ہوگا ورنہ نہیں۔
مرد پر صدقہ اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے۔ بالغ اولاد اور بیوی کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں۔
اگر بیوی اور بالغ اولاد کے پاس اتنا مال ہو کہ جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے تو وہ اپنا صدقہ فطر خود ادا کریں۔ البتہ اگر مرد اپنی بیوی اور بالغ اولاد کی طرف سے بھی ان کو بتا کر ادا کر دے تو یہ بھی درست ہے، ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا۔
(ہدایہ)
مسئلہ:
جس نے کسی وجہ سے روزے نہیں رکھے، اس پر بھی یہ صدقہ واجب ہے۔ جس نے روزے رکھے اس پر بھی واجب، دونوں میں کچھ فرق نہیں۔
(عالمگیری)”
مسئلہ:
بہتر یہ ہے کہ عید الفطر کی نماز کو جانے سے پہلے ہی صدقہ فطر ادا کر دیا جائے۔ اگر پہلے نہیں دیا تو بعد میں ادا کریں۔ رمضان میں ادا کرنے سے ستر گنا زیادہ ثواب رمضان کی وجہ سے ملے گا۔ اس لیے رمضان میں ادا کرنے کی کوشش کریں تا کہ یہ فضیلت حاصل ہو سکے۔
مسئلہ:
اگر کسی نے عید کے دن صدقہ فطر نہ دیا تو معاف نہیں ہوا، اب کسی دن دے دینا چاہیے۔
مسئلہ:
صدقہ فطر میں اگر گندم یا خاص اناج دینا ہو تو ایک شخص کی طرف سے پونے دو کلو بلکہ احتیاطاً دو کلو یا کچھ زیادہ دے دینا چاہیے۔
اگر جو یا خالص جو کا اناج دینا ہو تو اس کا دوگنا یعنی ساڑھے تین کلو دیا جائے۔ اسی طرح کشمش اور کھجور کا بھی یہی حکم ہے۔
جن کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے اور وہ دنیا کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ صدقہ فطر میں بھی کشمش، کھجور کی قیمت سے صدقہ فطر ادا کریں۔
مسئلہ:
اگر گندم، جو، کھجور کے علاوہ کوئی اور چیز دی مثلاً چنا، جوار، چاول، باجرہ وغیرہ تو اتنا دیں کہ اس کی قیمت خالص گندم یا جو کے برابر ہو جائے جتنا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
مسئلہ:
اگر کوئی جنس نہیں دی بلکہ اس کی نقد قیمت دے دی تو یہ سب سے بہتر ہے۔
قیمت چونکہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، لہٰذا ہر سال ادا کرتے وقت بازار سے گندم وغیرہ کی قیمت معلوم کر کے عمل کیا جائے۔ آج کل راشن اور دوسرا اناج بازار میں دستیاب ہے جو کہ خالص نہیں ہوتا، لہٰذا اس کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ خالص گندم کی قیمت کا اعتبار کیا جائے۔
جو مقدار اوپر بیان کی گئی یہ ایک شخص کا صدقہ فطر ہے۔
مسئلہ:
ایک آدمی کا صدقہ فطر ایک ہی مستحق کو دے دیں یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی مستحق افراد کو دیں، دونوں طرح جائز ہے۔
(درمختار)
مسئلہ:
اگر کئی آدمیوں کا صدقہ فطر ایک ہی مستحق کو دے دیا تو یہ بھی درست ہے۔
صدقہ فطر انہیں لوگوں کو دیا جا سکتا ہے جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔ عام پیشہ ور فقیروں کو صدقہ فطر جب تک اچھی طرح تحقیق نہ ہو جائے نہ دیں، اور نہ ہی ان کی ظاہری حالت پر اعتماد کریں۔
اگر خود اس سلسلے میں دشواری ہو تو کسی مستند عالم یا متقی شخص کو اپنا وکیل بنا کر اس کے ذریعے صدقہ فطر ادا کریں۔ احتیاط اسی میں ہے۔
اپنے عزیز و اقارب، اہلِ محلہ جو غریب ہوں، اور دینی مدارس کے طلباء اس کے بہترین مستحق ہیں۔ طلباء کی مدد سے دین کی اشاعت کا ثواب الگ ملتا ہے، یعنی دوہرا ثواب۔
جزاک اللہ خیراً”
WhatsApp us