
ایک دن رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں آرام فرمارہے تھے کہ عالم خواب میں حضرت جبرائیل علیہ السلام سبز ریشمی پارچہ پر سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی تصویر لائے اور عرض کیا:
’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ خاتون اس دنیا اور آخرت میں آپ کی زوجہ ہے‘‘۔
بیوی کا چہرہ دیکھنے کے بعد آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں ہی ارشاد فرمایا:
’’اگر یہ خواب اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ضرور پورا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ایسی زوجہ ضرور عطا فرمائے گا‘‘۔
اور یہ خواب مسلسل تین رات آتا رہا اور یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لئے بہت بڑی منقبت ہے کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے آنے سے پہلے ہی ان کے جمال پُرانوار کا محب و مشتاق بنادیا۔
ایک روز رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف فرما رہے تھے کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا حاضر خدمت ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں: ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ دوسرا نکاح کرلیں‘‘۔
’’کس سے؟‘‘ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ ’’بیوہ اور کنواری دونوں طرح کے رشتے ہیں جسے پسند فرمائیں‘‘۔
حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا۔ ’’کون ہیں؟‘‘ ’’بیوہ تو حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ہیں اور کنواری آپ کے قریب ترین دوست اور عاشق زار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں‘‘۔
حضرت خولہ زوجہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تو فرمایا: ’’دونوں جگہ بات کرو‘‘۔
حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اذن پانے کے بعد حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سیدھی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے در دولت پر پہنچیں اس وقت وہ گھر پر نہیں تھے، ان کی اہلیہ محترمہ حضرت سیدہ زینب ام رومان رضی اللہ عنہا نے بڑی خندہ پیشانی سے انہیں بٹھایا تو حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
’’بہن! میں عائشہ بیٹی (رضی اللہ عنہا) کے لئے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیام لے کر آئی ہوں‘‘۔
’’عائشہ رضی اللہ عنہا کے باپ کو آلینے دو، ان سے بات کروں گی پھر بتائوں گی، کل آنا‘‘۔ حضرت زینب ام رومان رضی اللہ عنہا نے کہا تو سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا اٹھ کر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے والد زمعہ کے پاس آتی ہیں، وہ انہیں دیکھ کر کہتے ہیں: ’’آئو خولہ (رضی اللہ عنہا) بیٹھو، آپ کو آج کا دن مبارک ہو‘‘۔ وہ بولیں۔
’’تمہارے لئے بھی خیرو برکت ہو، کیسے آئی ہو؟‘‘ زمعہ نے دریافت کیا۔ ’’آپ کی بیٹی سودہ رضی اللہ عنہا کے لئے پیام لائی ہوں‘‘۔ ’’کس کا؟‘‘ ’’سنیں گے تو خوش ہوجائیں گے‘‘۔ سیدہ خولہ نے جواب دیا۔ ’’بتاؤ تو سہی؟‘‘ زمعہ نے اپنی پوری توجہ اس کی طرف مبذول کردی۔ ’’اللہ کے محبوب ہادی برحق صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا‘‘۔ ’’لاریب ذاتی اور خاندانی لحاظ سے آپ سے بہتر اور کوئی نہیں ہے‘‘۔
زمعہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’پھر کیا ارادہ ہے؟‘‘ سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا۔ ’’ذاتی طور پر مجھے قطعاً اعتراض نہیں لیکن سودہ رضی اللہ عنہا کی مرضی دریافت کرلو‘‘۔
زمعہ نے مشورہ دیا تو وہ اٹھ کر ان کے پاس چلی گئیں۔ انہوں نے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو بڑی محبت سے بٹھایا۔ ’’کیسے آئی ہیں؟‘‘ انہوں نے دریافت کیا۔ ’’رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں، کیا مرضی ہے؟‘‘ سنا تو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا کہ اس عمر میں جبکہ عمر پچاس سال ہے۔
دوسرے دن حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا دوبارہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر گئیں، وہ منتظر تھے جب وہ بیٹھ گئیں تو گویا ہوئے: ’’خولہ رضی اللہ عنہا! مجھے تمہارے توسط سے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام ملا ہے، میرا جو تعلق آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے اس کی روشنی میں کیا یہ جائز ہے؟ عائشہ (رضی اللہ عنہا) تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھتیجی ہیں‘‘۔
’’میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس ضمن میں بات کروں گی پھر اطلاع دوں گی‘‘۔ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے کہا اور اٹھنے لگیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ایک اور بات ہے‘‘۔ ’’وہ کیا ہے؟‘‘ ’’میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے لئے جبیر بن مطعم سے وعدہ کرچکا ہوں، وعدہ خلافی ہوگی تاوقتیکہ اس طرف سے کوئی جواب نہ ملے‘‘۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بتایا تو وہ اٹھ کر چلی گئیں اور سیدھی آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاشانہ اقدس پر پہنچیں اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! سودہ (رضی اللہ عنہا) نے آپ کو اختیار دے دیا ہے کہ جو چاہیں اس کے حق میں فیصلہ صادر فرمائیں‘‘۔
پھر عرض کیا: ’’میں آپ کے دوست اور جانثار کے ہاں بھی گئی تھی‘‘۔ ’’کیا کہتا ہے؟‘‘ ’’حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ کہتے ہیں کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) تعلق کے لحاظ سے آپ کی بھتیجی لگتی ہے، کیا یہ رشتہ جائز ہوگا؟‘‘ سماعت فرمایا تو ارشاد کیا: ’’ابوبکر (رضی اللہ عنہا) میرا صرف دینی بھائی ہے، نکاح جائز ہے‘‘۔
ایک بات انہوں نے یہ بھی بتائی تھی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے انہوں نے جبیر بن مطعم سے وعدہ کررکھا ہے۔ ’’ٹھیک ہے‘‘۔ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور پھر حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے شادی ہوگئی جنہوں نے اپنے آقا و مولا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی اپنی اولاد سے بڑھ کر دیکھ بھال کی۔
چند دنوں کے بعد جبیر بن مطعم نے خود ہی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کرنے سے انکار کردیا اور وجہ یہ بتائی: ’’میں نہیں چاہتا کہ عائشہ کے گھر میں آنے سے میرے گھر میں اسلام داخل ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور کردی تھیں۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کو بلا بھیجا جب آئیں تو کہا:
’’جبیر نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے شادی کرنے سے انکار کردیا ہے اب آپ جاکر آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہہ دیں کہ جب چاہیں، عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے شادی کرلیں‘‘۔
مہر ادا ہوجانے کے بعد صحابیات کی ایک جماعت دلہن کے گھر پہنچی، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دلہن بنایا گیا اور پھر اس کمرے میں لایا گیا جہاں انصار کی عورتیں منتظر تھیں۔ انہوں نے بڑی محبت و خوشی سے دلہن کا استقبال کیا اور کہا: ’’تمہارا آنا بخیرو بابرکت اور نیک فال ہو‘‘۔
تھوڑی دیر کے بعد رحمۃ للعالمین، سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اس شادی میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سہیلی حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں، فرماتی ہیں:
اس وقت آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضیافت کے لئے دودھ پیش کیا گیا۔ آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالہ سے تھوڑا سا دودھ پیا اور پھر پیالہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھادیا۔ وہ شرمانے لگیں، میں نے کہا: ’’رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عطیہ واپس نہ کرو‘‘۔ پھر انہوں نے شرماتے شرماتے لے لیا اور ذرا سا پی کر رکھ دیا۔ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’اپنی سہیلیوں کو دو‘‘۔ انہوں نے کہا: ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم کو اشتہا نہیں‘‘۔ فرمایا: ’’جھوٹ نہ بولو، آدمی کا ایک جھوٹ لکھا جاتا ہے‘‘۔ اور پھر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوگئی۔ یہ شوال کا مہینہ اور سن ہجری کا دوسرا سال تھا۔ ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب میکے سے رخصت ہوکر حرم نبوی میں رونق افروز ہوئیں تو رہائش کے لئے آپ کو جو حجرہ ملا، وہ مسجد نبوی سے متصل تھا اس گھر کا دروازہ بجانب مسجد تھا اور ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا جس گھر میں مکین تھیں اس کا دروازہ بجانب آل عثمان تھا اس وقت تک صرف دو ہی حجرے تعمیر ہوئے تھے۔ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں صاحبزادیاں سیدہ حضرت ام کلثوم اور سیدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہتی تھیں۔
جس حجرہ میں دنیا و آخرت کی زوجہ رسول اکرم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قیام پذیر تھیں، اس کی لمبائی چوڑائی چند ذرائع پر محیط صرف ایک کمرہ کی صورت میں تھا، دیواریں خام اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بناکر اوپر گارا لگادیا گیا تھا، چھت بھی کھجور کی شاخوں اور پتوں سے بنائی گئی تھی، بارش سے محفوظ رکھنے کے لئے اس چھت کے اوپر کمبل ڈال دیئے گئے تھے اور دروازے کو پردے کے لئے ایک کمبل سے ڈھانپ دیا گیا تھا اس سے متصل ایک بالا خانہ تھا جسے مشربہ کہتے تھے۔
گھر کا کل اثاثہ ایک چارپائی، ایک چٹائی، ایک بستر، ایک تکیہ جس میں چھال بھری تھی، آٹا اور کھجور رکھنے کے لئے ایک دو برتن، پانی کا ایک برتن اور پانی پینے کے لئے پیالہ سے زیادہ نہ تھا، کئی کئی راتیں گھر میں چراغ نہیں جلتا تھا۔
سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب شادی کے بعد کاشانہ نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تشریف لائیں تو انہوں نے اپنے نئے گھر کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ گھر میں دو جوان لڑکیاں موجود ہیں جن کی شادی ہونا چاہئے لیکن گھریلو حالات مالی طور پر سازگار نہیں تھے، دوسرے قریش کے بیشتر گھرانے مکہ میں رہ گئے تھے جو ابھی تک داخل اسلام نہیں ہوئے تھے اور مدنی ماحول ابھی نیا تھا۔ ان حالات میں بیٹیوں کی شادی میں رکاوٹ ڈالی ہوئی تھی۔
ایک دن آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بچیوں کی شادی کا ذکر چھیڑ دیا اور عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! بچیاں اس قابل ہیں کہ ان کی شادی کردی جائے، ایک تجویز ہے‘‘۔ ’’کیا؟‘‘ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیوں نہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کردی جائے‘‘۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سماعت فرمایا تو بہت خوش ہوئے۔
چوتھی بیٹی سیدہ ام کلثوم تھیں، ان کی اس وقت عمر 20 سال تھی۔ ان کی بڑی ہمشیرہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حبالہ عقد میں تھیں، 2 ہجری میں وصال پاچکی تھیں، ایک روز ام المومنین رضی اللہ عنہا نے اپنے آقا و مولا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: ’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ ’’کس بارے میں؟‘‘ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ ’’ام کلثوم کی اگر ان سے شادی کردی جائے‘‘ْ
تجویز نہایت مناسب تھی۔ چنانچہ رشتہ طے پاگیا اور پھر وہ 3 ہجری میں رخصت ہوکر اپنے خاوند کے پاس تشریف لے گئیں۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایسی بے مثال محبت، اپنائیت کا ثبوت دیا کہ تاریخ سوتیلی اولاد کے ساتھ ایسا مثالی سلوک پیش کرنے سے قاصر ہے۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا گھر گھر سے خوب واقف تھیں، ایک دن وہ بیٹھی اپنا نقاب سی رہی تھیں جو پھٹ گیا تھا کہ اسی اثناء میں کسی نے دریافت کیا:
’’ام المومنین رضی اللہ عنہا! کیا اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کی فراوانی نہیں فرما دی؟‘‘ سنا تو ارشاد فرمایا: ’’چھوڑو ان باتوں کو، وہ نئے کپڑے کا حق دار نہیں جو پرانے کپڑے استعمال نہ کرے‘‘۔ پرانے کپڑوں کی عادی ہونے کی وجہ سے سیدہ رضی اللہ عنہا پرانے کپڑے چھوڑنا پسند نہیں کرتی تھیں۔
حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کثرت ازواج اور خصوصاً سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی میں بڑی مصلحت یہ تھی کہ ان کے ذریعے عورتیں فیض یاب ہوسکیں جس عمر میں ان کا حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیاہ ہوا تھا، وہ سیکھنے کی صلاحیتوں سے بھرپور ہوتی ہے اور ذوق و شوق بھی۔ علوم دینیہ کی تعلیم کا مخصوص وقت نہ تھا۔ معلم شریعت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خود گھر میں تھے، شب و روز ان کی محبت میسر تھی۔ رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم و ارشاد کی محفلیں روزانہ مسجد نبوی میں سجتی تھیں جو حجرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بالکل ملحق تھی اس بناء پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر جو لوگوں کو درس دیتے تھے، وہ اس میں شریک ہوتی تھیں اگر کبھی زیادہ فاصلے کی وجہ سے کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو جب حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف لاتے تو سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دوبارہ پوچھ کر تسلی کرلیتی تھیں۔ کبھی اٹھ کر مسجد کے قریب تشریف لے جاتی تھیں اس کے علاوہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی درخواست پر ہفتہ میں ایک خاص دن ان کی تعلیم و تلقین کے لئے متعین فرمادیا تھا۔
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اپنے آقا و مولا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے اور جاننے کا شوق تھا اور جس کے بارے میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ ہوتا تو فوراً دریافت فرمالیتی تھیں تاکہ وضاحت ہوجائے اور بات روشن ہوجائے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا حساب کیا گیا، وہ عذاب میں پڑا‘‘۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’یا حبیب اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے عنقریب حساب کیا جائے گا، آسان حساب جب حساب آسان ہوگا تو پھر عذاب کیسے ہوگا؟‘‘ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’یہ پیشی ہے حساب نہیں‘‘۔ ایک مرتبہ رسول عربی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جو شخص اللہ کی ملاقات پسند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اس کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا، اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا‘‘۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم میں سے تو کوئی بھی موت کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ فرمایا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن جب اللہ تعالیٰ کی رحمت و خوشنودی کے انعامات و جنت کا حال سنتا ہے تو اس کا دل اللہ کا مشتاق ہوجاتا ہے لہذا وہ بھی اس کے آنے کا مشتاق رہتا ہے۔
ایک مرتبہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’یا حبیب اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! نکاح میں عورت کی رضا مندی لازمی ہے لیکن کنواری لڑکیاں شرم سے اظہار نہیں کرتیں‘‘۔ ارشاد فرمایا: ’’اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے‘‘۔
ایک دن رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: ’’فداک ابی و امی یا محبوب اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس مسئلہ میں حکمت عطا ہو کہ دوسرے دینی فرائض کی طرح کیا جہاد بھی عورتوں پر واجب ہے؟‘‘
ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ رضی اللہ عنہا! عورتوں کے لئے حج ہی جہاد ہے‘‘۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: ’’کیا کفارو مشرکین کے نیک اعمال کا انہیں آخرت میں کوئی اجر ملے گا؟‘‘
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سوال کا حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب مرحمت فرمایا: ’’ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کے بغیر کوئی نیک عمل قابل قبول اور لائق جزا نہیں‘‘۔
الغرض اس طرح جب بھی موقع ملتا، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہر آن اور ہر لحظہ سیکھنے کی سعی جمیلہ فرماتی رہتی تھیں اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ سمجھاتے تاکہ کسی نوع کا کوئی ابہام و شک نہ رہ جائے۔
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحابہ کرام رضوان للہ علہیم اجمعین نے پوچھا: ’’آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’عائشہ‘‘ (رضی اللہ عنہا) عرض کیا: ’’مردوں میں سے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ان کے والد‘‘۔
ام المومنین سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کا لقب صدیقہ اور حمیرا تھا اور ان کی کنیت اپنے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر کے نام پر ام عبداللہ ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آقا و مولا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی: ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! میری بھی کنیت مقرر فرمادیں‘‘۔ ارشاد فرمایا: ’’اپنی بہن حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے عبداللہ سے اپنی کنیت رکھ لو‘‘۔
جب تک حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ازواج مطہرات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں تو آپ باری باری ہر ایک بیوی کے پاس شب باش ہوتے تھے جب وقت گزرنے کے ساتھ اور ازواج مطہرات بھی آگئیں تو پھر سب کے لئے باری مقرر تھی۔ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ تھیں، انہوں نے اپنی باری کا دن اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی و رضا کے لئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا اس کے بعد آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے اور ایک ایک دن دوسری ازوا ج کے ساتھ گزارتے تھے۔
گھر کی مالی حالت ایسی تھی کہ جو آتا سب راہ اللہ میں تقسیم کردیا جاتا جس کے نتیجہ میں گھر میں چولہا بہت کم جلتا تھا۔ مسلسل تین دن تک کبھی سیر ہوکر نہیں کھایا تھا۔ صحابہ کرام رضوان للہ علہیم اجمعین اپنی محبت کی وجہ سے ہدایہ و تحائف بارگاہ رسالت میں پیش کرتے رہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زیادہ محبوب ہیں لہذا وہ ان کی باری کے منتظر رہتے تھے کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے جائیں تو بھیجیں۔ مقصد صرف اتنا تھا کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی اور خوش ہوں۔
محبت کی شرع بڑی عجیب ہے اس میں اگر کبھی ناراضگی بھی ہوجائے تو وہ بھی محبت ہی ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایسا ناز و نیاز تھا جیسا کہ محب و محبوب کے درمیان ہوتا ہے اور وہ جو چاہتی تھیں، بلا جھجک عرض کردیتی تھیں۔ ایک دن حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں تھے اور باہم باتیں کررہے تھے، رسول عربی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اے عائشہ! (رضی اللہ عنہا) میں جانتا ہوں کبھی مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کبھی خفا ہوجاتی ہو‘‘۔
عرض کیا: ’’یا محبوب اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کیسے جانتے ہیں؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’جب تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: ’’لا ورب محمد یعنی محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب کی قسم اور جب خفا ہوتی ہو تو کہتی ہو لاورب ابراہیم یعنی ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے بالکل صحیح فرمایا‘‘۔
اور پھر عرض کیا:
میں نہیں چھوڑتی مگر صرف آپ کے اسم کو لیکن آپ کی ذات گرامی اور آپ کی یاد میرے دل میں ہے اور میری جان آپ کی محبت میں مستغرق ہے، اس محبت میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔
ایک دن رسول کریم رئوف الرحیم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! (رضی اللہ عنہا) اگر تم چاہتی ہو کہ میرے ساتھ جنت میں رہو تو تمہیں چاہئے کہ دنیا میں اس طرح رہو جس طرح کہ راہ چلتا مسافر ہوتا ہے کہ وہ کسی کپڑے کو پرانا نہیں سمجھتا جب تک کہ وہ پیوند کے قابل ہے اور وہ اس میں پیوند لگاتا ہے‘‘۔
ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’یا حبیب اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے رکھے‘‘۔
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم اس مرتبہ کو چاہتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچا کے نہ رکھو اور کسی کپڑے کو جب تک کہ اس میں پیوند لگ سکتا ہے، بے کار نہ کرو‘‘۔
چنانچہ ان کی ساری زندگی حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس وصیت و نصیحت کی آئینہ دار رہی، کل کے لئے کبھی کھانا بچا کر نہ رکھا اور کپڑا پھٹ جاتا تو سی لیتی تھیں اور اگر ضرورت ہوتی تو پیوند لگالیتی تھیں۔
اُمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تمام ازواجِ مطہرات میں ایک خاص مقام رکھتی تھیں، آپ کو مجتہد صحابہؓ میں شمار کیا جاتا ہے، بلکہ اصحابِ رسول کو جب کسی مسئلہ میں مشکل پیش آتی تو آپ کے درِ اقدس پہ حاضر ہوتے اور اپنے مسائل پیش کرتے، آپ ان کا تشفی بخش جواب عنایت فرماتیں۔ ایک کثیر جماعتِ صحابہؓ و تابعینؒ کو آپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔ کبار صحابہ کرام وصحابیات علیہم الرضوان کو آپ پر حد درجہ اعتماد تھا۔ مختلف علوم پر آپ کو مکمل دسترس تھی۔ آپ ؓ کے مایہ ناز شاگرد، بھانجے اور تربیت یافتہ حضرت عروہؒ بن زبیرؓ کا قول ہے:
’’مَارَاَیْتُ اَحَدًا اَعْلَمَ بِالْقُرْآنِ وَلَا بِفَرِیْضَۃٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَلَا بِفِقْہٍ وَلَا بِشِعْرٍ وَلَا بِطِبٍّ وَلَا بِحَدِیْثِ الْعَرَبِ وَلَا نَسبٍ مِّنْ عَائِشَۃؓ ۔‘‘ (تذکرۃ الحفاظ)
ترجمہ: ’’میں نے قرآن،فرائض ،حلال و حرام، فقہ، شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم سیدہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا ) سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘
طبقاتِ ابن سعد میں ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ ’’میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ نہ کسی کو سنتِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا عالم دیکھا، نہ کسی ایسے معاملے میں جس میں رائے کی حاجت ہو، ان سے زیادہ کسی کو فقیہ دیکھا، اور نہ کسی آیت کے شانِ نزول میں ان سے زیادہ عالم دیکھا اور نہ فرائض میں کسی کو آپ سے بڑھ کر پایا۔‘‘
اسی طرح عطا بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’کَانَتْ عَائِشَۃُ اَفْقَہَ النَّاسِ وَاَعْلَمَ النَّاسِ وَاَحْسَنَ النَّاسِ رَاْیاً فِی الْعَامَّۃِ۔‘‘
یعنی ’’عام معاملات میں حضرت عائشہ( رضی اللہ عنہا ) سب سے بڑھ کر فقیہہ، سب سے بڑی عالمہ اور رائے ومشورہ میں سب سے بڑھ کر تھیں۔‘‘
امام زہری رحمۃ اللہ علیہ ان تمام باتوں کا احاطہ کرتے ہوئے آپ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’لَو جُمِع عِلْمُ النَّاسِ کُلّھم ثُمّ عِلمُ اَزْوَاج النَّبی ﷺ فَکَانَت عائشۃُ وُسْعٰھم عِلماً۔‘‘ (طبقات ابن سعد ، الإصابۃ في تمییز الصحابۃؓ)
’’اگر تمام مردوں اور اُمّہات المومنین کا علم ایک جگہ جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے وسیع تر ہوگا۔‘‘
امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا مقام اور مرتبہ کسی سے مخفی نہیں، ان کا قول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایک حجت کا درجہ رکھتا ہے۔
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدہ صدیقہؓ علم کا بحرِ بے کنار تھیں۔ ( تذکرۃ الحفاظ)
فقیہۂ امت
ابن سعدؒ نے محمود بن لبیدؒ سے روایت کیا ہے کہ:’’ ازواجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر احادیث حفظ کیں، مگر نہ عائشہؓ ، اُم سلمہؓ کے برابر۔ ‘‘
سیدہ عائشہ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں اپنی وفات تک برابر فتویٰ دیتی رہیں، ان پر اللہ کی رحمت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے پاس اکابر صحابہؓ حضرت عثمان، حضرت عمر رضی اللہ عنہما آدمی بھیج کر احادیث دریافت کیا کرتے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ؓ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں بھی فتویٰ دیتی تھیں۔ (طبقاتِ ابن سعد)
آپ ؓ کے تبحرِ علمی کے سبھی اصحابِ پاکؓ ناصرف معترف تھے، بلکہ اکابر صحابہ کرام ؓ کو آپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے اور مشکل مسئلہ میں آپ ہی کی طرف رجوع کیا جاتا، گویا کہ وصالِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپؓ نے اُمت کی ہمیشہ رہنمائی فرمائی ہے۔
حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اکابر صحابہؓ کی ایک جماعت نے تفقہ حاصل کیا ہے اور روایت کی ہے۔ ان میں عمرو بن عاصؓ، ابو موسیٰ اشعریؓ، زید بن خالد جہنیؓ، ابو ہریرہؓ، ابن عباسؓ، ربیعہ بن عمرو جوشیؓ، سائب بن یزیدؓ، حارث بن عبداللہ ابن نوفلؓ وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔اور اکابر تابعین میں سعید ابن مسیب ؒ،علقمہ بن قیسؒ، عمرو بن میمونؒ، مطرف بن عبداللہ بن شخیرؒ، مسروق بن اجدع ؒ، اسود بن یزید نخعیؒ کے علاوہ بہت بڑی جماعت ہے۔‘‘ (خیر القرون کی درسگاہیں، صفحہ نمبر: ۱۲۵)
کثیر الروایہ
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: آپ کو آٹھ برس اور پانچ ماہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت میں رہنے کا شرف حاصل ہے۔ (تذکرۃ الحفاظ)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا شمار کثیر الروایہ صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ مسند احمد بن حنبل میں آپ کی مرویات کی تعداد ۲۴۳۴ درج ہے، اس میں تکرار کو شمار کیا گیا ہے۔ بغیر تکرار کے محدثین نے آپ کی مرویات کی تعداد ۲۲۱۰ نقل کی ہے، جن میں ۷۴ احادیث متفق علیہ، ۵۴ احادیث میں امام بخاریؒ منفرد ہیں اور ۶۸ احادیث میں امام مسلمؒ منفرد ہیں۔
بعض علماء نے آپ کو کثیر الروایہ صحابہؓ میں چوتھے، بعض نے چھٹے اور بعض نے ساتویں نمبر پر شمار کیا ہے۔
حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا علمی مقام ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’روایات کی کثرت کے ساتھ ساتھ تفقُّہ اور قوتِ استنباط کے علاوہ سیدہ عائشہؓ کی روایتوں کی ایک خاص خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ جن احکام اور واقعات کو نقل کرتی ہیں، ان کے علل و اسباب بھی بیان کرتی ہیں۔وہ خاص حکم جن مصلحتوں پر مبنی ہوتا ہے، ان کی تشریح کرتی ہیں۔‘‘ (سیرتِ عائشہؓ)
علم الفرائض
علم الفرائض کو نصف علم قرار دیا جاتا ہے، قدرت نے آپؓ کو اس سے بھی حظِّ وافر عطا فرمایا تھا۔ آپ نے صحبت و رفاقتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب خوب استفادہ کیا، پھر اسے اُمت کو منتقل کرنے میں حق ادا کردیا۔ ابن سعدؒ مسروقؒ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ:
’’ان سے کہا گیا کہ کیا حضرت عائشہؓ فرائض اچھی طرح جانتی تھیں؟ انہوں نے کہا: کیا خوب! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی اُستانی دیکھا ہے کہ اکابر صحابہ کرامؓ ان سے فرائض پوچھتے تھے۔‘‘ (طبقات ابن سعد، الاستیعاب )
دیگر علوم
علم الانساب تو گویا آپ کو وراثت میں ملا تھا، کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ علم الانساب میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، علمِ کلام کے بارے میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا، جن میں رؤیتِ باری تعالیٰ، عصمتِ انبیاء کرام علیہم السلام اور سماعِ موتی پر آپ کے نظریات و خیالات سے متکلمین کو راہنمائی ملتی ہے۔ علمِ تاریخ میں ہشام نے اپنے والد عروہ کا جو قول نقل کیا ہے وہ کافی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ :’’تاریخ و انساب میں آپ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر جاننے والا کوئی نہ تھا۔‘‘
حضرت عروہؒ کہتے ہیں کہ: ’’ میں نے فقہ،طب اور شعر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم والا نہیں دیکھا۔‘‘
اشعار کے بارے میں حضرت عروہؒ ہی کے بارے میں ابن عبدالبرؒ نے الاستیعاب میں لکھا ہے کہ: ’’ابو زناد کہتے ہیں کہ میں نے اشعار کے حفظ کے بارے میں حضرت عروہؒ جیسا کسی کو نہیں دیکھا، ان سے پوچھا گیا: اے ابوعبداللہ! یہ اشعار آپ کو کس نے یاد کروائے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے صرف وہی اشعار آتے ہیں جو میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنے ہیں، وہ بر موقع شعر سنایا کرتی تھیں۔‘‘ (الاستیعاب لابن عبدالبر)
آپ کو فصاحت و بلاغت میں نمایاں مقام حاصل تھا، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد آپ کا درجہ ہے، آپ کے خطبات اس کی عکاسی کرتے ہیں جن میں جوشِ خطابت، فصاحت و بلاغت، اسرار و اشعار کی آمیزش ہوتی، جیسا کہ ترمذی میں موسیٰ بن طلحہ کا یہ قول نقل ہے: ’’مَارَاَیْتُ اَفْصَحَ مِن عَائِشَۃ۔‘‘ ۔۔۔۔ ’’میں نے عائشہؓ سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں دیکھا۔‘‘
تاہم آپ اشعار نہیں کہتی تھیں، البتہ شاعرانہ صلاحیت آپ میں خوب تھی، علاوہ ازیں اللہ نے آپ کو مختلف علوم میں مہارتِ تامہ عطا فرمائی تھی، جن میں سے چند ہم نے اختصار سے پیش کیے ہیں۔ اسلامی تاریخ، غزوات، سیر، نزولِ قرآن کی ترتیب و مقامات، وحی کی کیفیت اور دیگر واقعات آپ ہی کے ذریعے امت تک پہنچے، آپ کی روایت کردہ احادیث، آپ کے فتاویٰ اور اقوال آج بھی امت کے لیے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہیں اور تا قیامت آپ کا یہ فیض جاری و ساری رہے گا۔
استاذالمحدثین نامور سیرت نگار حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ لکھتے ہیں: ’’احکامِ شرعیہ کا چوتھائی حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔‘‘ (سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، جلد سوم)
اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل بے شمار ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے (ایک دفعہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
((أریتکِ فی المنام مرتین، أری أنکِ في سرقۃ من حریر ویقول: ھٰذہ امرأتکَ، فأکشف فإذا ھي أنتِ فأقول: إن یک ھٰذا من عنداللہ یمضہ))
تم مجھے خواب میں دو دفعہ دکھائی گئی ہو، میں نے دیکھا کہ تم ایک سفید ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی تھیں اور (فرشتہ) کہہ رہا تھا: یہ آپ کی بیوی ہیں۔ میں وہ کپڑا ہٹاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ تم ہو۔ میں کہتا تھا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اُسے ضرور پورا کرے گا۔
(صحیح البخاری: 3895 وصحیح مسلم: 2438 [6283])
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جبریل علیہ السلام مجھے (میری تصویر کو) ریشم کے لباس میں لائے تو فرمایا:
’’ھٰذہ زوجتکَ فی الدنیا والآخرۃ‘‘
یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی زوجہ ہیں۔
(صحیح ابن حبان، الاحسان: 7052 [7094] وسندہ حسن)
ایک روایت میں ہے کہ:
’’جاء الملک بصورتي إلٰی رسول اللہ ﷺ فتزوجني رسول اللہﷺ وأنا ابنۃ سبع سنین وأھدیت إلیہ وأنا ابنۃ تسع سنین‘‘
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:) رسول اللہ ﷺ کے پاس فرشتہ میری تصویر لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی اور (اس وقت) میری عمر سات سال تھی اور نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔
(المستدرک للحاکم 4/ 10 ح 6730 وسندہ حسن و صححہ الحاکم ووافقہ الذہبی)
سیدنا رسول اللہ ﷺ نے اپنی زوجۂ مبارکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر فرمایا:
((فأنتِ زوجتي فی الدنیا والآخرۃ))
پس تُو دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہے۔
(صحیح ابن حبان: 7053 [7095] وسندہ صحیح، وصححہ الحاکم 4/ 10 ح 6729 ووافقہ الذہبی)
رسول اللہ ﷺ کے بستر مبارک پر آنے والی آپ کی سب ازواج یقینا جنت میں بھی آپ کی ازواج ہوں گی لیکن آپ نے خاص طور پر اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
((أما إنک منھن))
تم تو انھی میں سے ہو۔
(صحیح ابن حبان: 7054 [7096] وسندہ صحیح، وصححہ الحاکم 4/ 13 ح 6743 ووافقہ الذہبی)
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خاص ساتھی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے (علانیہ) فرمایا:
’’إني لأعلم أنھا زوجتہ فی الدنیا والآخرۃ ……‘‘
بے شک میں جانتا ہوں کہ وہ (عائشہ رضی اللہ عنہا) آپ ( ﷺ) کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔
(صحیح بخاری: 3772)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علٰی سائر الطعام))
عائشہ کی فضیلت عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح تمام کھانوں سے ثرید افضل ہے۔
(صحیح بخاری: 3770، صحیح مسلم: 2446 [6299])
ثرید اس لذیذ کھانے کو کہتے ہیں جسے روٹی کو چُوری کر کے گوشت کے شوربے میں بھگوکر بنایا جاتا ہے۔
نبی ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
((أي بنیۃ! ألستِ تحبین ما أحب؟))
اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟
انھوں نے فرمایا: جی ہاں۔
آپ (ﷺ) نے فرمایا:
((فأحبي ھٰذہ))
پس تم اس (عائشہ رضی اللہ عنہا) سے محبت کرو۔
(صحیح مسلم: 83/ 2442 [6290])
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:
آپ لوگوں میں سے کس سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ((عائشۃ)) میں سب سے زیادہ عائشہ سے محبت کرتا ہوں۔
(صحیح بخاری: 3662، صحیح مسلم: 2384 [6177])
نبی کریم ﷺ نے (ایک دفعہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
((یا عائش! ھٰذا جبریل یقرئکِ السلام))
اے عائش (عائشہ)! یہ جبریل تجھے سلام کہتے ہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ‘‘
اور ان پر (بھی) اللہ کی رحمت اور سلام ہو۔
(صحیح بخاری: 6201 وصحیح مسلم: 91/ 2447 [6304])
ایک روایت میں ’’وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ (صحیح بخاری: 3768)
رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
((لاتؤذیني في عائشۃ، فإنہ واللہ ما نزل عليّ الوحي وأنا في لحاف امرأۃٍ منکن غیرھا))
مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو، بے شک اللہ کی قسم! مجھ پر تم میں سے صرف عائشہ کے بستر پر ہی وحی نازل ہوتی ہے۔
(صحیح بخاری: 3775)
سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہم، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر جب بھی کسی حدیث میں اشکال ہوا تو ہم نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پوچھا اور ان کے پاس اس کے بارے میں علم پایا۔
(سنن الترمذی: 3883 وقال: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب‘‘ وسندہ حسن)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت میں انھیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
آپ (امت میں) پہلی خاتون ہیں جن کا بے گناہ ہونا آسمان سے نازل ہوا۔
(فضائل الصحابۃ للامام احمد 2/ 872 ح 1636 وسندہ صحیح)
اس کے علاوہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اور بہت سی خوبیاں بیان کیں تو سیدہ نے فرمایا:
’’دعني منک یا ابن عباس! والذي نفسي بیدہ! لوددت أني کنت نسیًا منسیًا‘‘
اے ابن عباس! مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتی ہوں کہ میں بھولی ہوئی گمنام ہوتی۔
(مسند احمد 1/ 277 ح 2496 وسندہ حسن، طبقات ابن سعد 8/ 74 وسندہ صحیح)
نیزدیکھئے صحیح بخاری (3771)
نبی کریم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا آخری زمانہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزرا۔ (دیکھئے صحیح بخاری: 3774)
بلکہ آپ کی وفات سیدہ عائشہ کی گود میں ہوئی۔ (دیکھئے صحیح بخاری: 4449 وصحیح مسلم: 2443)
عیسیٰ بن دینار (ثقہ راوی) نے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا:
’’استغفر اللہ لھا‘‘
میں ان کے لئے اللہ سے استغفار (مغفر ت کی دعا) کرتا ہوں۔
(طبقات ابن سعد 8/ 74 وسندہ صحیح)
مشہور ثقہ فقیہ عابد تابعی ابو عائشہ مسروق بن الاجدع الکوفی رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’حدثتني الصدیقۃ بنت الصدیق، حبیبۃ حبیب اللہ، المبرّأۃ‘‘
مجھے صدیق کی بیٹی (عائشہ) صدیقہ نے حدیث بیان کی (جو) اللہ کے حبیب کی حبیبہ ہیں (اور) پاک دامن ہیں۔
(مسند احمد 6/ 241 ح 26044 وسندہ صحیح)
اُم ذرہ (ثقہ راویہ) سے روایت ہے کہ:
(سیدنا) ابن زبیر (رضی اللہ عنہ) نے سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس دو بوریوں میں ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا تو انھوں نے ایک ٹرے منگوا کر اسے لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔
اس دن آپ روزے سے تھیں۔
جب شام ہوئی تو آپ نے فرمایا: میری افطاری لے آؤ۔
اُم ذرہ نے کہا: اے ام المومنین! کیا آپ یہ نہیں کر سکتی تھیں کہ جو مال تقسیم کر دیا ہے، اس میں سے پانچ درہم بچا کر ان سے گوشت خرید لیتیں اور اس سے روزہ افطار کرتیں؟
سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے جواب دیا: مجھے ملامت نہ کرو، اگر تم مجھے یاد دلا دیتیں تو میں یہ کر دیتی۔
(طبقات ابن سعد 8/ 67 وسندہ صحیح)
ایک دفعہ حفصہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللہ باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں تو انھوں نے اس دوپٹے کو پھاڑ دیا اور حفصہ کو موٹا گاڑھا دوپٹہ اوڑھا دیا۔ (الموطأ، روایۃ یحییٰ 2/ 913 ح 1758، وسندہ صحیح)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے تین سال پہلے (سیدہ) خدیجہ (رضی اللہ عنہا) فوت ہو گئی تھیں۔ آپ نے تقریباً دوسال بعد عائشہ (رضی اللہ عنہا ) سے نکاح کیا اور ان کی عمر چھ (6) سال تھی پھر (9) سال کی عمر میں وہ آپ کے گھر تشریف لائیں۔
(صحیح بخاری: 3896، صحیح مسلم: 1422)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچی کا نکاح ہو سکتا ہے لیکن رخصتی بلوغ کے بعد ہوگی۔
چھ یا سات سال کی عمر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور نوسال کی عمر میں رخصتی والی حدیث متواتر ہے۔
1— عروہ بن الزبیر
2— اسود بن یزید [صحیح مسلم: 72/ 1422 وترقیم دارالسلام: 3482]
3— یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب [مسند ابی یعلیٰ: 4673 وسندہ حسن]
4— ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف [سنن النسائی 6/ 131ح 3381 وسندہ حسن]
5— عبداللہ بن صفوان [المستدرک للحاکم 4/ 10 ح 6730 وسندہ صحیح وصححہ الحاکم ووافقہ الذہبی]
اسے ان سب نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے۔
عروہ سے ہشام بن عروہ اور زہری (صحیح مسلم: 1422) نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ ہشام بن عروہ نے سماع کی تصریح کر دی ہے اور وہ تدلیس کے الزام سے بری ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث مروی ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء 2/ 139)
قولِ صحیح کے مطابق آپ کی وفات ستاون ہجری (57ھ) میں ہوئی۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: 8633)
اور آپ کی نمازِ جنازہ سیدنا امیرالمومنین فی الحدیث الامام الفقیہ المجتہد المطلق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تھی۔ (دیکھئے التاریخ الصغیر للبخاری
یہ تقریباً 678 عیسوی بنتا ہے۔ Medina اور آپؓ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
WhatsApp us